پوری دنیا کے ٹی وی، اخبارات اور نیوز چینلز پر چلنے والے آج کل ایک رجحان کی ہی بات کرتے ہیں جس میں ہماری قوم گھری ہوئی ہے۔ ڈرامے کا مرکزی کردار ٹین ایجر ملالہ یوسفزئی نے انجام دیا، ڈرامے میں نام نہاد طالبان عورتوں کے حقوق اور تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پر ملالہ کو گولی مار دیتے ہیں۔ طالبان سے منسوب تمام کہانیاں محض افسانہ ہی تو ہیں حالانکہ طالبان تو اس روئے زمین کے سب سے معزز اور امن پسند لوگ ہیں۔ کالی پگڑیاں باندھنے والے ان خراسانیوں کے بارے میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ یہ اسلام کے رکھوالے ہیں اور بس چند برے لوگوں کی وجہ سے ہی بدنام ہیں جو کہ سی آئی اے، را اور موساد کے اہلکار ہیں۔ 

اس ڈرامے کے خلاف سب سے پہلا اور مضبوط ترین ثبوت یہ ہے کہ یہ کبھی ثابت نہیں ہوا کہ ملالہ کو آیا گولی بھی لگی ہے کہ نہیں اور اگر لگی ہے تو سر کے دائیں جانب لگی ہے یا بائیں جانب لگی ہے۔ ابتدائی خبروں کے مطابق ملالہ کو کھوپڑی میں گولی لگی اور یہ گولی وہیں پھنس گئی تھی اور ہمارہ یقین بس انہی ادھوری اور ابتدائی خبروں پر ہے خواہ حکومت، معالجین یا کوئی باوثوق زرائع جو بھی کہیں جبکہ بعد میں یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ ملالہ کو گولی بائیں جانب کھوپڑی سے ہو تی ہوئی جبڑےاور پھر بائیں کندھے میں گھس گئی۔ ملالہ کو ابتدا میں ایل آر ایچ پشاور اور پھر ایم ایچ راولپنڈی لیجائیا گیا۔ پشاور میں ابتدائی علاج کے دوران ہی اس کی گولی نکال دی گئی تھی اور راولپنڈی لیجانے کا مقصد اس کی کھوپڑی کے زخم کی دیکھ بھال تھی۔ دماغ گولی کے شاک کیوجہ سے سوجھ گیا تھا۔ کچھ عرصہ آئی سی یو میں رکھنے کے بعد اسے کوئین ہسپتال برطانیہ منتقل کر دیا گیا تا کہ دماض کی کسی قسم کی بھی حرکات کی کڑی نگرانی ہوجبکہ اسے ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا۔ اخبارات میں صرف سرسری خبریں آئی جن کی بنیاد سازشی تھیوریوں پر تھی اور اصل حقیقت نظروں سے اوجھل رہی۔ 
اس کے باوجود ہم مصر رہیں گے کہ یہ ایک ڈرامہ ہی تھا۔ ایک اور ‘مصدقہ’ اور سازشی نظریات میں جان بھرنے والی خبر ملالہ کی فوٹو شاپ میں بنائی گئی ایک تصویر کے منظر عام پر آنے سے تشکیل پائی۔ اس تصویر میں ملالہ کے سر کا زخم سر کے دائیں جانب دکھایا گیا۔ اب یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ کمپیوٹرکی سمجھ بوجھ رکھنے والا کوئی بھی یہ کام فوٹوشاپ میں بخوبی کر سکتا ہے۔ اور سونے پر سہاگہ لوگوں کا اصرار تھا جن کا دعویٰ کہ یہ اصلی تصویر ہے۔ اس ڈرامے میں مرچ مصالحے کا آغاز تب ہوا جب ایک مذہبی جماعت کے سابق سربراہ کی بیٹی نے ملالہ اور اس کے والد کی امریکیوں سے ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر شائع کیں۔ آزاد زرائع کا کہنا تھا کہ یہ تصاویر اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل کی ایک تقریب کی ہیں جہاں ملالہ اپنے والدین سمیت بطور مہمان مدعوتھی۔ لیکن ہمیشہ کی طرح میں یہ ثبوت بھی مسترد کرنے میں حق بجانب ہوں جو میری سازشی تھیوری کیخلاف جائے۔ 
ایک اور تصویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی جس میں ملالہ ہیلی کاپٹر کی جانب بھاگ رہی تھی۔ یہ تصویر بھی اس کے گولی لگنے کے ڈرامے کا پردہ چاک کررہی تھی۔ ایک بار پھر کچھ لوگ دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ یہ تصویر دراصل ایک عیسائی بچی کی ہے جسے کچھ عرصہ قبل ایک امام مسجد نے توہین رسالت کا مرتکب ٹھہرانے کی ناکام کوشش کی یہ تصویر بھی بعد میں ایک فراڈ ثابت ہوئی لیکن ہم اس کہانی کو صحیح مانیں گے تب نا۔آپ میرا یقین کریں کیونکہ میں فیس بک کے ایک پیج جس کا نام “100000 بار پسند کریں اگر آپ پاکستان سے پیار کرتے ہیں” کا ایڈمن ہوں اور میرے پیج کے لائیک میری ڈیمانڈ سے دس گنازیادہ ہیں۔ لہٰذا میں ملالہ کے خلاف جو بھی کہہ رہا ہوں صحیح کہہ رہا ہوں اور آپکو میری بات پر یقین کرنا پڑے گا ورنہ آپ سچے مسلمان اور سچے پاکستانی ہرگز نہیں ہیں بلکہ اسلام اور پاکستان دشمن ہیں اور ملالہ کی طرح سی آئی اے کے ایجنٹ بھی ہو سکتے ہیں۔ کرۂ عرض پر پیش کیے جانیوالے اس عظیم ڈرامے میں ملالہ نام کا ایک مرکزی کردار ہے ۔ بہت خوب! کیونکہ اس میں نہ صرف ملالہ اور اس کا باپ ملوث ہیں بلکہ سی آئی اے اور طالبان نے بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ حکومت نے ہمیشہ کی طرح ایک تماش بین کا کردار ہی ادا کیا ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے ڈاکٹرز اور عملہ اور کوئین ہسپتال یوکے کا عملہ بھی کٹھ پتلی کا سا کردار ادا کرتا نظر آتا ہے حالانکہ ملالہ تو صحت مند تھی اور اسے خراش بھی نہ آئی تھی۔ این جی اوز اور میڈیا بھی اس نئے خفیہ ورلڈ آرڈر کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں اور اس گینگ کا حصہ بھی ہیں جو یہ فرضی ڈرامہ گھڑےہوئے ہیں۔ شازیہ اور کائینات بھی اپنے کردار بخوبی ادا کرتی نظر آتی ہیں۔بعد ازاں گولی مارنیوالے طالب کے خاندان کے مذمتی بیانات بھی ان کرداروں کے بطور معاوضہ کام کرنےوالا ہونے کا ثبوت ہیں۔ ملالہ کی عیادت کو جانیوالے بری فوج کے سربراہ اور دو سیاستدان بشمول عمران خان (میرا خیال ہے کہ یہ خان کا کوئی ڈبل ہو گا، کیونکہ خان ایک عظیم انسان ہے اور ایسے گھٹیا ڈرامے کا حصہ نہیں ہو سکتا)بھی اسی ڈرامے کی ایک کڑی ہیں۔
جی ایٹ کے اجلاس میں ملالہ کی تصویر کا اویزاں کیا جانا اور ٹائم میگزین کے سرورق پر ملالہ کی تصویر کا چھپنا بھی یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ یہودیوں کی سازش ہے۔ جبکہ یو این میں ملالہ کی تقریر اسلام اور پاکستان کا امیج خراب کرنے کا واضح ثبوت ہے اور ہم نہیں مانتے کہ اس نے پاکستان کا امیج بہتر بنایا ہے کیونکہ آپ کو تو پتہ ہے کہ یو این امریکہ کی لونڈی ہےاور پاکستان کی دشمن ہے۔ ملالہ کی تقریر ورجینیا ایل اے میں مرتب ہوئی اور اس میں جان بوجھ کے مقدس شخصیات کے ساتھ غیر مسلموں کے نام لئیے گئے جو کہ یہ ثابت کرنے کے لئیے کیا کافی نہیں ہے کہ یہ ایک ڈرامہ اور سازش تھی۔ اور تو اور صاحب، ملالہ کے آیئڈیل ہمارے دشمن اوبامہ ہیں۔اب آپ یہ نہ کہیے گا کہ میں خود تو سارا دن جسٹن بیبر اور جینیفر لوپیز کو سنتا رہتا ہوں، میں سچا پاکستانی اور مسلمان ہوں کیونکہ میں اس فیس بک پیج کا مالک ہوں جس کے 10000 لائیکس ہیں۔ 
حیران کن بات یہ ہے کہ ڈرامے کی یہ تمام اقساط بہت منظم طور پر عام زندگی کی طرح عکس بند کی گئی اور ہر کسی نے بنا کسی جھول کے اپنا کردار بخوبی نبھایا۔ میں اس ڈرامے کو آسکر ایوارڈ دینے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ مزید یہ کہ اس ڈرامے میں تحریک طالبان پاکستان کا نمائندہ احسان اللہ بھی ایک اہم کردار ادا کرتا نظر آتا ہےجب وہ سورۃ الکہف کی آیات جہاں حضرت خضر ایک بچے، جو بڑا ہو کر اپنے والدین کا نافرمان بننے والا تھا، کو مار دینے کا قصہ ہے کو اپنے اقرار نامے میں بطور جواز اوراسکی بنیاد پر حملے کی توجیح پیش کرتا ہے۔ شیخ احسان اللہ یہ بھی واضح کرتا ہےکہ اگر ملالہ بچ گئی تو اسے پھر دوبارہ نشانہ بنایا جائیگا۔ لیکن آپ تو جانتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان اصل میں امریکیوں کی تنظیم ہے۔ اب یہ نہ کہنے بیٹھ جانا کہ ایک سی آئی اے ایجنٹ دوسرے سی آئی اے ایجنٹ کو کیوں مارے گا۔ میں نے آپ پر واضح نہیں کیا کہ ڈراموں میں کیا ایسے ہی نہیں ہوتا؟ کیا آپ سچے مسلمان اور محب وطن پاکستانی نہیں ہیں جو میری بات پر یقین کی بجائے مجھ پر شک و شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔ آپ کو یقین کرنا ہو گا کیونکہ میں اس فیس بک پیج کا ایڈمن ہوں جسکا نام ہے “100000 بار پسند کریں اگر آپ پاکستان سے پیار کرتے ہیں”۔ 
ایک اور انگشت بدنداں کرنیوالی حقیقت جو یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ ڈرامہ تھا یہ ہے کہ ملالہ کو انگلش آتی تھی۔ یہ اس کے سی آئی اے ایجنٹ ہونیکا سب سے بڑا اور اہم ثبوت ہےکیونکہ وہ ابھی صرف چودہ سال کی تھی اور اتنی فرفر انگریزی بولتی تھی۔ ملالہ کو انگریزی سکھانے کے لیے انگلش ٹرینگ کے سکول لیجائیا گیا تاکہ وہ بی بی سی کے بلاگ میں لکھنے کے قابل ہو سکے۔ لیکن زرا ٹھہریے ملالہ نے بلاگ تو بی بی سی اردو پر اردو زبان میں لکھا تھا۔ اوہو تھوڑی سی غلطی ہو گئی، اصل میں اسے اردو کے سکول لیجائیا گیا کیونکہ وہ تو پشتون تھی اور اسے اردو نہیں آتی تھی، اس سے میری دلیل صحیح ثابت ہو جاتی ہے۔ مزید یہ کہ جو کہتے ہیں کہ سوات ایک پڑھا لکھا علاقہ ہے اور ملالہ کا والد ایک انگلش میڈیم پرائیوٹ سکول چلاتا تھا وہ بھی سچا مسلمان نہیں ہے۔ وہاں اس کا بچوں کو معیاری تعلیم دینا بھی ڈرامے کا ایک حصہ تھا۔ میری دلیل ہر حال میں صحیح ثابت ہوتی ہےکیونکہ میں سازشی تھیوری بنانے میں مشاق ہوں اور یہ بھی بتلا چکا ہوں کہ میں فیس بک پیج کا مالک ہوں اور وہی سچ ہے جو میں آپ کو بتاؤں۔ وہ اسلام کی ایک دشمن تھی کیونکہ اس نے کہا تھا کہ مقدس برقعہ اسے پتھر کے دور کی یاد دلاتا ہے اور لمبی داڑھی والا معزز طالبان اسے فرعون کی یاد دلاتا ہے۔ اس نے اسلامی شعار کا مذاق اڑایا- اگرچہ کسی نے بھی یہ تحریر بی بی سی آن لائن پر نہیں پڑھی مگر میں پھر بھی اسے تسلیم نہیں کرتا کیونکہ بی بی سی توہین شعار اسلام پر مبنی یہ مواد اپنی ویب سائیٹ سے ہٹا بھی سکتا ہےتا کہ ڈرامے میں کوئی خلل نہ پڑے۔ 
 وہ لوگ جو یہ خیال رکھتے ہیں کہ درحقیقت اسے گولی لگی تھی ان کے لیے ایک اور پراسرار تھیوری ہےجو ان کے دلوں کو گرما دے گی اور ان کے عقیدے کو جلا بخشے گی۔ ملالہ کا والد ضیاءالدین درحقیقت سی آئی اے کا ایک ایجنٹ تھا، اس نے اپنی بیٹی کو اپنی تشہیر کے لیے استعمال کیا۔ بیچاری ملالہ کو اسکے کٹھور باپ نے پہلے سکول بیجھااور پھر شہرت کی خاطر اسے استعمال کیا۔ وہ سوات میں ایک انگلش میڈیم سکول چلاتا ہے اور یہ سکول کو ایجوکیشن میں چلتا ہے۔ وہ اصل میں ایک کافر ہےاور وہ عورتوں کے حقوق اور ان کی برابری کے نظریات رکھتا ہے۔ میں اس کے متعلق زیادہ بات نہیں کروں گا کیونکہ اس کا کو ایجوکیشن کا انگلش میڈیم سکول چلانا ہی میرے چاہنے والے فیس بک فین کے لیے یہ ثابت کرنا کہ وہ سی آئی اے کا یجنٹ ہے، سب سے بڑی دلیل ہے۔ میرا خیال ہے کہ سبھی انگلش پڑھ سکتے ہیں (یہ آرٹیکل انگریزی آرٹیکل کا اردو ترجمہ ہے)، میں بھی انگلش جانتا ہوں کیونکہ میں نے بھی کے پی کے ایک انگلش میڈیم سکول میں انگلش کی تعلیم حاصل کی ہےلیکن میں سی آئی اے کا ایجنٹ نہیں ہوں کیونکہ میں حب الوطنی پر مبنی فیس بک کا ایک پیج چلاتا ہوں۔ اگرچہ میرے سکول بھی کو ایجوکیشن تھاپر یہ سوات میں نہیں تھا۔ اس لیے یہ پروقار تہذیب اور مذہبی تعلیمات میں کوئی خلل پیدا نہیں کر رہا تھا۔اب میں اپنا مقدمہ ختم کرتا ہوں۔ والسلام، پاکستان زندہ باد
 مصنف کا نوٹ: (یہ ایک طنزیہ تحریر ہے جو کے ہماری بدقسمت قوم کے نظریاتی انحطاط کا آئینہ ہے۔ ملالہ، اسکے پیغام اور اسکی سوچ میں ہی کچھ رہی سہی امید اور روشنی بچی ہے جو کہ شاید اس قوم کی قسمت کا پانسہ پلٹ سکے۔ سازشی نظریات بنانے والوں نے سرسید، اقبال اور جناح تک کو نہیں بخشا، یہ تو محض ایک 16 سال کی بچی ہے۔ افسوس کہ ملک اور اس قوم کی سوچ انہی سازشییوں کے قبضے میں ہے لیکن ملالہ میری بچی ہم تمہارے ساتھ اس جہاد میں شریک ہیں اور ہر علمی محاذ پر تمہارے پیغام کو عام کریں گے اور ان لوگوں کے خلاف ایک آہنی دیوار ثابت ہوں گے)


This article was originally published here on Rationalist Society of Pakistan’s Urdu Blog.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *